آج کی حدیث

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّلاَةِ (بَابُ اسْتِقْبَالِ الرَّجُلِ صَاحِبَهُ أَوْ غَيْرَهُ فِي صَلاَتِهِ وَهُوَ يُصَلِّي)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَكَرِهَ عُثْمَانُ: «أَنْ يُسْتَقْبَلَ الرَّجُلُ وَهُوَ يُصَلِّي» وَإِنَّمَا هَذَا إِذَا اشْتَغَلَ بِهِ فَأَمَّا إِذَا لَمْ يَشْتَغِلْ فَقَدْ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: «مَا بَالَيْتُ إِنَّ الرَّجُلَ لاَ يَقْطَعُ صَلاَةَ الرَّجُلِ»

511   حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهَا مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ، فَقَالُوا: يَقْطَعُهَا الكَلْبُ وَالحِمَارُ وَالمَرْأَةُ، قَالَتْ: لَقَدْ ج....

صحیح بخاری:

کتاب: نماز کے احکام و مسائل

(

باب: نماز پڑھتے وقت ایک نمازی کا دوسرے شخص کی طرف رخ کرنا کیسا ہے؟

)

مترجم:

ترجمۃ الباب:

اور حضرت عثمان ؓ نے ناپسند فرمایا کہ نمازی کے سامنے منہ کر کے بیٹھے۔ امام بخاری نے فرمایا کہ یہ کراہیت جب ہے کہ نمازی کا دل ادھر لگ جائے۔ اگر دل نہ لگے تو زید بن ثابت ؓ نے کہا کہ مجھے اس کی پروا نہیں۔ اس لیے کہ مرد کی نماز کو مرد نہیں توڑتا۔

511  حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، ان کے سامنے تذکرہ ہوا کہ نماز کو کیا چیز توڑ دیتی ہے، لوگوں نے کہا: کتے، گدھے اور عورت کے (نمازی کے) سامنے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ اس پر حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے فرمایا: تم لوگوں نے ہم عورتوں کو تو کتوں کے برابر بنا دیا ہے، حالانکہ میں نے نبی ﷺ کو اس طرح نما....

مزید تفصیل

نئی اپڈیٹس

آج کے وزیٹرز

وزیٹرز 1998

ٹوٹل وزیٹرز

وزیٹرز 3203489

نئی اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں