آج کی حدیث

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابُ اسْتِعْمَالِ فَضْلِ وَضُوءِ النَّاسِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة  

ترجمة الباب: وَأَمَرَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: «أَهْلَهُ أَنْ يَتَوَضَّئُوا بِفَضْلِ سِوَاكِهِ»

187   حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الحَكَمُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، يَقُولُ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالهَاجِرَةِ، فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ فَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَالعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ

صحیح بخاری :

کتاب: وضو کے بیان میں

(

باب: لوگوں کے وضو کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا۔

)

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

ترجمۃ الباب:

جریر بن عبداللہ نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا تھا کہ وہ ان کے مسواک کے بچے ہوئے پانی سے وضو کر لیں۔یعنی مسواک جس پانی میں ڈوبی رہتی تھی، اس پانی سے گھر کے لوگوں کو بخوشی و ضو کرنے کے لیے کہتے تھے۔

187.   حضرت ابو جحیفہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا تو آپ نے وضو فرمایا۔ پھر لوگ آپ کے وضو سے باقی ماندہ پانی لینے لگے اور بدن پر ملنے گئے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ظہر اور عصر کی دو، دو رکعت ادا کیں اور دوران نماز میں آپ کے سامنے ایک برچھی گاڑی گئی تھی۔

مزیدتفصیل

نئی اپڈیٹس

آج کے قارئین

1,092

اس ہفتے کے قارئین

3,551

اس ماہ کے قارئین

25,964

ٹوٹل قارئین

31,966,396

نئی اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں