صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي غَسْلِ البَوْلِ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
ترجمة الباب: وَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِصَاحِبِ القَبْرِ: «كَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ». وَلَمْ يَذْكُرْ سِوَى بَوْلِ النَّاسِ
220 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ القَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا تَبَرَّزَ لِحَاجَتِهِ، أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَغْسِلُ بِهِ»
صحیح بخاری
:
کتاب: وضو کے بیان میں
باب: پیشاب کو دھونے کے بیان میں
)مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
ترجمۃ الباب:
اور یہ کہ رسول کریم ﷺ نے ایک قبر والے کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ اپنے پیشاب سے بچنے کی کوشش نہیں کیا کرتا تھا، آپ ﷺ نے آدمی کے پیشاب کے علاوہ کسی اور کے پیشاب کا ذکر نہیں فرمایا۔
220. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ جب رفع حاجت کے لیے باہر تشریف لے جاتے تو میں آپ کے لیے پانی لے کر جایا کرتا جس سے آپ استنجا کرتے۔
آج کے قارئین
284
اس ہفتے کے قارئین
17,846
اس ماہ کے قارئین
32,666
ٹوٹل قارئین
32,058,976