صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ:)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
51 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، أَنَّ هِرَقْلَ، قَالَ لَهُ: سَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ الإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ، وَكَذَلِكَ الإِيمَانُ، حِينَ تُخَالِطُ بَشَاشَتُهُ القُلُوبَ لاَ يَسْخَطُهُ أَحَدٌ .
صحیح بخاری
:
کتاب: ایمان کے بیان میں
باب
)مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
51. حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں: مجھے ابوسفیان نے بتایا کہ ہرقل نے ان سے یہ کہا: میں نے تم سے دریافت کیا تھا کہ اس کے پیروکار ترقی پذیر ہیں یا روبہ انحطاط؟ تو تم نے بتایا کہ وہ دن بدن زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔ یقیناً ایمان کا معاملہ اسی طرح ہوتا ہے، تا آنکہ وہ پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے۔ پھر میں نے تم سے پوچھا: اس کے متبعین میں سے کوئی دین میں داخل ہونے کے بعد اسے برا سمجھتے ہوئے مرتد بھی ہو جاتا ہے؟ تو تم نے جواب دیا: نہیں۔ اور ایمان کا یہی حال ہوتا ہے۔ جب اس کی بشاشت دلوں میں سرایت کر جاتی ہے، تو پھر کوئی شخص اس سے ناراض نہیں ہوتا۔
آج کے قارئین
1,437
اس ہفتے کے قارئین
9,612
اس ماہ کے قارئین
44,822
ٹوٹل قارئین
31,668,862