آج کی حدیث

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابُ الوُضُوءِ مِنْ غَيْرِ حَدَثٍ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة  

ترجمة الباب:

217   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ» قُلْتُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟ قَالَ: يُجْزِئُ أَحَدَنَا الوُضُوءُ مَا لَمْ يُحْدِثْ

صحیح بخاری :

کتاب: وضو کے بیان میں

(

باب: بغیر حدث کے بھی نیا وضو کرنا جائز ہے۔

)

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

217.   حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے۔ (راوی عمرو بن عامر کہتے ہیں) میں نے پوچھا: آپ حضرات (صحابہ) کا کیا معمول تھا؟ حضرت انس ؓ نے فرمایا: ہم میں سے ایک شخص کو اس وقت تک وضو کافی ہوتا تھا جب تک اسے حدث لاحق نہ ہوتا۔

مزیدتفصیل

نئی اپڈیٹس

آج کے قارئین

1,106

اس ہفتے کے قارئین

9,920

اس ماہ کے قارئین

24,740

ٹوٹل قارئین

32,051,050

نئی اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں