صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابُ حَمْلِ العَنَزَةِ مَعَ المَاءِ فِي الِاسْتِنْجَاءِ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
155 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَدْخُلُ الخَلاَءَ، فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلاَمٌ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً، يَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ» تَابَعَهُ النَّضْرُ وَشَاذَانُ، عَنْ شُعْبَةَ العَنَزَةُ: عَصًا عَلَيْهِ زُجٌّ
صحیح بخاری
:
کتاب: وضو کے بیان میں
باب:اس بیان میں کہ استنجاء کے لیےپانی کے ساتھ نیزہ (بھی) لے جانا ثابت ہے۔
)مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
155. حضرت انس ؓ ہی سے روایت ہے، آپ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کی چھاگل اور ایک برچھی لے کر آپ کے ساتھ ہو جاتے۔ آپ پانی سے استنجا کرتے تھے۔ نضر اور شاذان نے حضرت شعبہ سے اس (محمد بن جعفر) کی متابعت کی ہے۔ عنزه اس لاٹھی کو کہتے ہیں جس کے آگے لوہے کا پھل لگا ہو۔
آج کے قارئین
1,564
اس ہفتے کے قارئین
10,476
اس ماہ کے قارئین
22,471
ٹوٹل قارئین
31,885,499