آج کی حدیث

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الغُسْلِ (بَابُ الغُسْلِ بِالصَّاعِ وَنَحْوِهِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة  

ترجمة الباب:

257   حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ وَأَبُوهُ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ فَسَأَلُوهُ عَنِ الغُسْلِ، فَقَالَ: «يَكْفِيكَ صَاعٌ»، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا يَكْفِينِي، فَقَالَ جَابِرٌ: «كَانَ يَكْفِي مَنْ هُوَ أَوْفَى مِنْكَ شَعَرًا، وَخَيْرٌ مِنْكَ» ثُمَّ أَمَّنَا فِي ثَوْبٍ

صحیح بخاری :

کتاب: غسل کے احکام و مسائل

(

باب: اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے

)

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

257.   حضرت ابوجعفر ؓ سے روایت ہے کہ وہ اور ان کے والد گرامی، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس تھے جبکہ ان کے ہاں اور لوگ بھی تھے۔ انھوں نے حضرت جابر ؓ سے غسل کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا۔ تجھے ایک صاع کافی ہے۔ اس پر انہی لوگوں میں سے کسی نے کہا: مجھے تو کافی نہیں ہے۔ حضرت جابر ؓ نے فرمایا: اتنا پانی تو اس ذات گرامی کے لیے کافی ہوتا تھا جن کے بال بھی تجھ سے زیادہ تھے اور وہ خود بھی تجھ سے بہتر تھے۔ پھر حضرت جابر ؓ نے ایک کپڑے میں ہماری امامت کرائی۔

مزیدتفصیل

نئی اپڈیٹس

آج کے قارئین

2,414

اس ہفتے کے قارئین

5,047

اس ماہ کے قارئین

53,867

ٹوٹل قارئین

32,168,764

نئی اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں