صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابُ اسْتِعْمَالِ فَضْلِ وَضُوءِ النَّاسِ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
ترجمة الباب: وَأَمَرَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: «أَهْلَهُ أَنْ يَتَوَضَّئُوا بِفَضْلِ سِوَاكِهِ»
192 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ «وَهُوَ الَّذِي مَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ وَهُوَ غُلاَمٌ مِنْ بِئْرِهِمْ» وَقَالَ عُرْوَةُ، عَنِ المِسْوَرِ، وَغَيْرِهِ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ «وَإِذَا تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ»
صحیح بخاری
:
کتاب: وضو کے بیان میں
باب: لوگوں کے وضو کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا۔
)مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
ترجمۃ الباب:
جریر بن عبداللہ نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا تھا کہ وہ ان کے مسواک کے بچے ہوئے پانی سے وضو کر لیں۔یعنی مسواک جس پانی میں ڈوبی رہتی تھی، اس پانی سے گھر کے لوگوں کو بخوشی و ضو کرنے کے لیے کہتے تھے۔
192. حضرت محمود بن ربیع ؓ سے روایت ہے، یہ وہی محمود ہیں جن کے چہرے پر رسول اللہ ﷺ نے انہی کے کنویں کے پانی سے کلی فرمائی تھی جب کہ وہ بچے تھے۔ حضرت عروہ جناب مسور وغیرہ سے بیان کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے: جب نبی اکرم ﷺ وضو فرماتے تو صحابہ کرام ؓ آپ کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو لینے کے لیے آپس میں جھگڑتے تھے۔
آج کے قارئین
745
اس ہفتے کے قارئین
15,225
اس ماہ کے قارئین
37,638
ٹوٹل قارئین
31,978,070