صحيح البخاري: كِتَابُ الغُسْلِ (بَابُ غَسْلِ المَذْيِ وَالوُضُوءِ مِنْهُ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
274 حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَأَمَرْتُ رَجُلًا أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِمَكَانِ ابْنَتِهِ، فَسَأَلَ فَقَالَ: «تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ»
صحیح بخاری
:
کتاب: غسل کے احکام و مسائل
باب: اس بارے میں کہ مذی کا دھونا اور اس کی وجہ سے وضو کرنا ضروری ہے۔
)مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
274. حضرت علی ؓ سے روایت ہے، انهوں نے فرمایا: مجھے مذی بکثرت آتی تھی۔ چونکہ میرے گھر میں نبی ﷺ کی صاجزادی تھیں، اس لیے میں نے ایک شخص سے کہا کہ وہ آپ سے اس کے متعلق سوال کرے۔ انهوں نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وضو کر لو اور اپنے عضو مخصوص کو دھو لو۔‘‘
آج کے قارئین
1,997
اس ہفتے کے قارئین
15,434
اس ماہ کے قارئین
15,435
ٹوٹل قارئین
32,224,960