صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ: تَفَاضُلِ أَهْلِ الإِيمَانِ فِي الأَعْمَالِ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
23 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ». قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الدِّينَ.»
صحیح بخاری
:
کتاب: ایمان کے بیان میں
باب:(اس بیان میں کہ) ایمان والوں کا عمل میں ایک دوسرے سے بڑھ جانا (عین ممکن ہے)۔
)مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
23. حضرت ابوسعید خدری ؓ ہی سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں ایک مرتبہ سو رہا تھا کہ بحالت خواب لوگوں کو دیکھا، وہ میرے سامنے لائے جاتے ہیں اور وہ کُرتے پہنے ہوئے ہیں۔ بعض کے کُرتے چھاتیوں تک ہیں اور کچھ لوگوں کے اس سے بھی کم۔ اور عمر بن خطابؓ کو میرے سامنے اس حالت میں لایا گیا کہ وہ کُرتا پہنے ہوئے ہیں اور اسے زمین پر گھسیٹ رہے ہیں۔‘‘ صحابہ ؓ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کی کیا تعبیر کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’دین۔‘‘
آج کے قارئین
1,132
اس ہفتے کے قارئین
6,887
اس ماہ کے قارئین
29,817
ٹوٹل قارئین
31,622,896