صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ السُّؤَالِ وَالفُتْيَا عِنْدَ رَمْيِ الجِمَارِ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
127 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الجَمْرَةِ وَهُوَ يُسْأَلُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ: «ارْمِ وَلاَ حَرَجَ»، قَالَ آخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ؟ قَالَ: «انْحَرْ وَلاَ حَرَجَ». فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلاَ أُخِّرَ إِلَّا قَالَ: «افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ»
صحیح بخاری
:
کتاب: علم کے بیان میں
باب: اس بیان میں کہ رمی جمار(یعنی حج میں پتھر پھینکنے) کے وقت مسئلہ پوچھنا جائز ہے۔
)مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
127. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو جمرے کے قریب بایں حالت دیکھا کہ آپ سے سوالات کیے جا رہے ہیں، چنانچہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’اب رمی کر لو، کوئی حرج نہیں۔‘‘ دوسرے نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔‘‘ الغرض کسی بھی چیز کی تقدیم و تاخیر کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے اس کا جواب دیا: ’’اب کر لو، کوئی حرج نہیں۔‘‘
آج کے قارئین
2,173
اس ہفتے کے قارئین
13,284
اس ماہ کے قارئین
27,710
ٹوٹل قارئین
31,812,328