صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابُ مَنْ حُمِلَ مَعَهُ المَاءُ لِطُهُورِهِ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
ترجمة الباب: وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: «أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالطَّهُورِ وَالوِسَادِ؟»
154 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ هُوَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ، تَبِعْتُهُ أَنَا وَغُلاَمٌ مِنَّا، مَعَنَا إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ»
صحیح بخاری
:
کتاب: وضو کے بیان میں
باب:اس بارے میں کہ کسی شخص کے ہمراہ اس کی طہارت کے لیےپانی لےجانا جائز ہے۔
)مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
ترجمۃ الباب:
حضرت ابوالدرداء نے فرمایا کہ تم میں جوتوں والے، پاک پانی والے اور تکیہ والے صاحب نہیں ہیں؟یہ اشارہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی طرف ہے جو رسول اللہ ﷺ کی جوتیاں، تکیہ اور وضو کا پانی لیے رہتے تھے، اسی مناسبت سے آپ کا یہ خطاب پڑگیا۔
154. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب قضائے حاجت کے لیے باہر جاتے تو میں اور ہم میں سے ایک لڑکا آپ کے ساتھ ہو جاتے تھے اور ہمارے ساتھ پانی کی چھاگل ہوتی تھی۔
آج کے قارئین
1,653
اس ہفتے کے قارئین
8,265
اس ماہ کے قارئین
20,260
ٹوٹل قارئین
31,883,288