صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابُ خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى البَرَازِ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
149 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى المَنَاصِعِ وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ فَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْجُبْ نِسَاءَكَ، فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ، فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ، زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي عِشَاءً، وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً، فَنَادَاهَا عُمَرُ: أَلاَ قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ، حِرْصًا عَلَى أَنْ يَنْزِلَ الحِجَابُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الحِجَابِ
صحیح بخاری
:
کتاب: وضو کے بیان میں
باب:اس بارے میں کہ عورتوں کا قضائے حاجت کے لئے باہر نکلنے کا کیا حکم ہے؟
)مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
149. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات رات کو قضائے حاجت کے لیے مناصع کی طرف جاتی تھیں، اس سے مراد کھلا میدان ہے۔ حضرت عمر ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کرتے تھے کہ آپ اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دیں، لیکن رسول اللہ ﷺ ایسا نہ فرماتے، چنانچہ ایک رات عشاء کے وقت نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت سودہ بنت زمعہ (قضائے حاجت کے لیے) باہر نکلیں اور وہ قد آور تھیں تو حضرت عمر ؓ نے انہیں آواز دی اور کہا: اے سودہ! ہم نے تمہیں پہچان لیا ہے۔ (حضرت عمر نے یہ اس لیے کہا) ان کی خواہش تھی کہ پردے کا حکم نازل ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پردے کا حکم نازل فرما دیا۔
آج کے قارئین
4,316
اس ہفتے کے قارئین
15,941
اس ماہ کے قارئین
9,026
ٹوٹل قارئین
31,872,054