صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ الإِنْصَاتِ لِلْعُلَمَاءِ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
124 حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ جَرِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ: «اسْتَنْصِتِ النَّاسَ» فَقَالَ: «لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»
صحیح بخاری
:
کتاب: علم کے بیان میں
باب: اس بارے میں کہ عالموں کی بات خاموشی سے سننا ضروری ہے۔
)مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
124. حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ان سے فرمایا: ’’لوگوں کو خاموش کراؤ۔‘‘ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ’’اے لوگو! میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کے، پھر کافر نہ بن جانا۔‘‘
آج کے قارئین
1,823
اس ہفتے کے قارئین
4,141
اس ماہ کے قارئین
18,567
ٹوٹل قارئین
31,803,185