صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ مَنْ أَعَادَ الحَدِيثَ ثَلاَثًا لِيُفْهَمَ عَنْهُ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
ترجمة الباب: فَقَالَ: «أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ» فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا وَقَالَ: ابْنُ عُمَرَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «هَلْ بَلَّغْتُ ثَلاَثًا؟»
95 حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ «إِذَا سَلَّمَ سَلَّمَ ثَلاَثًا، وَإِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلاَثًاحتى تفهم عنه»
صحیح بخاری
:
کتاب: علم کے بیان میں
باب: اس بارے میں کہ کوئی شخص سمجھانے کے لئے(ایک)بات کو تین مرتبہ دہرائے تو یہ ٹھیک ہے۔
)مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
ترجمۃ الباب:
چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے “ الاوقول الزور ” اس کو تین بار دہراتے رہے اور حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ میں نے تم کو پہنچا دیا ( یہ جملہ ) آپ نے تین مرتبہ دہرایا۔
95. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ جب سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے اور جب کوئی بات فرماتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے (تاآنکہ اسے خوب سمجھ لیا جاتا۔)
آج کے قارئین
706
اس ہفتے کے قارئین
707
اس ماہ کے قارئین
15,596
ٹوٹل قارئین
31,741,314