آج کی حدیث

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابٌ: مِنَ الكَبَائِرِ أَنْ لاَ يَسْتَتِرَ مِنْ بَوْلِهِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة  

ترجمة الباب:

219   حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ المَدِينَةِ، أَوْ مَكَّةَ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ» ثُمَّ قَالَ: «بَلَى، كَانَ أَحَدُهُمَا لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، وَكَانَ الآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ». ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ، فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ، فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كِسْرَةً، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: «لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ تَيْبَسَا» أَوْ: «إِلَى أَنْ يَيْبَسَا»

صحیح بخاری :

کتاب: وضو کے بیان میں

(

باب: اس بارے میں کہ پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنا کبیرہ گناہ ہے

)

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

219.   حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ مدینے یا مکے کے کسی باغ سے گزرے تو وہاں دو آدمیوں کی آواز سنی جن کو قبر میں عذاب ہو رہا تھا۔ اس وقت آپ نے فرمایا: ’’ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے لیکن یہ عذاب کسی بڑی بات پر نہیں دیا جا رہا۔‘‘ پھر فرمایا: ’’ ہاں (بڑی ہی ہے) ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کی عادت میں مبتلا تھا۔‘‘ پھر آپ نے ایک تر شاخ منگوائی، اس کے دو ٹکڑے کر کے ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ آپ سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا: ’’ امید ہے کہ جب تک یہ خشک نہ ہو جائیں، ان دونوں پر عذاب ہلکا کر دیا جائے گا۔‘‘

مزیدتفصیل

نئی اپڈیٹس

آج کے قارئین

1,161

اس ہفتے کے قارئین

15,775

اس ماہ کے قارئین

30,595

ٹوٹل قارئین

32,056,905

نئی اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں