آج کی حدیث

‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابٌ: مَتَى يَصِحُّ سَمَاعُ الصَّغِيرِ؟)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة  

ترجمة الباب:

77   حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ أَتَانٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلاَمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، وَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ، فَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكَرْ ذَلِكَ عَلَيَّ»

صحیح بخاری :

کتاب: علم کے بیان میں

(

باب:اس بارے میں کہ بچے کا(حدیث) سننا کس عمر میں صحیح ہے؟

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

77.   حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک دن گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ اس وقت میں قریب البلوغ تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ منیٰ میں کسی دیوار کو سامنے کیے بغیر نماز پڑھا رہے تھے۔ میں ایک صف کے آگے سے گزرا اور گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گیا۔ مجھ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔

مزیدتفصیل

نئی اپڈیٹس

آج کے قارئین

792

اس ہفتے کے قارئین

5,712

اس ماہ کے قارئین

35,856

ٹوٹل قارئین

31,711,721

نئی اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں