صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابُ لاَ تُسْتَقْبَلُ القِبْلَةُ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، إِلَّا عِنْدَ البِنَاءِ جِدَارٍ أَوْ نَحْوِهِ)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
147 حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الغَائِطَ، فَلاَ يَسْتَقْبِلِ القِبْلَةَ وَلاَ يُوَلِّهَا ظَهْرَهُ، شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا»
صحیح بخاری
:
کتاب: وضو کے بیان میں
باب:اس مسئلہ میں کہ پیشاب اور پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہیں کرنا چاہیے۔لیکن جب کسی عمارت یا دیوار وغیرہ کی آڑ ہو تو کچھ حرج نہیں۔
)مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
147. حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب کوئی قضائے حاجت کے لیے جائے تو قبلے کی طرف نہ منہ کرے اور نہ پشت، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا کرو۔‘‘
آج کے قارئین
1,793
اس ہفتے کے قارئین
8,709
اس ماہ کے قارئین
1,794
ٹوٹل قارئین
31,864,822